آسی[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آس رکھنے والا، امیدوار، آس والا۔  پن مجکوں اپس کے پاس رکھنا آسی کوں نکو نراس رکھنا      ( ١٧٠٠ء، من لگن، ١٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'آشا' ہے لیکن اردو زبان میں اس سے ماخوذ 'آس' بطور اسم مستعمل ہے اور 'آس' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'آسی' بنا جوکہ بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٩ء میں "دیوان سلطان" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: آشا
جنس: مذکر